یورک ایسڈ: پہچان,علامات اور علاج

یورک ایسڈ دراصل ایک تیزابی مادہ ہے جو انسانی جسم میں لحمیاتی غذاؤں (پروٹین) کے ہضم ہونے کے عمل کے دوران ایک فضلے کے طور پر پیدا ہوتا ہے۔


 جسم میں یورک ایسڈ کی پیدائش اور اس کے اضافے کی درج ذیل وجوہات ہو سکتی ہیں:

غذائی عوامل: جب ہم اپنی خوراک میں پروٹین والی اشیاء، سوداوی غذاؤں یا ریاحی غذاؤں کا کثرت سے استعمال کرتے ہیں، تو یہ مادے ہضم ہونے کے بعد جسم میں یورک ایسڈ کی مقدار بڑھا دیتے ہیں۔
ماحولیاتی اثرات: خشک سرد ماحول میں زیادہ وقت گزارنا بھی جسم میں اس کے بڑھنے کا ایک سبب بن سکتا ہے۔
نفسیاتی اور جذباتی عوامل: ذرائع میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ انسانی حواس پر ہر وقت مخصوص خیالات کا سوار رہنا، ہیجانی جذبات میں رہنا، یا انٹرنیٹ پر فحش مواد دیکھنا جیسے عوامل بھی جسمانی نظام پر اثر انداز ہو کر یورک ایسڈ کے اضافے کا باعث بنتے ہیں۔

عام طور پر یہ مادہ انسانی جسم سے خارج ہوتا رہتا ہے، لیکن جب مذکورہ بالا وجوہات کی بنا پر اس کی مقدار بڑھ جائے یا یہ جسم سے صحیح طرح خارج نہ ہو سکے، تو یہ جوڑوں میں درد اور دیگر طبی مسائل پیدا کرتا ہے،۔


 جسم میں یورک ایسڈ کی زیادتی کی صورت میں درج ذیل عام علامات ظاہر ہو سکتی ہیں:

جوڑوں اور پٹھوں کی تکلیف: جوڑ مضبوط اور سخت ہو جاتے ہیں، جس کی وجہ سے ان میں حرکت کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ مریض کو جوڑوں اور عضلات میں مستقل درد رہ سکتا ہے یا کبھی کبھار شدید ٹیسیں اٹھتی ہیں۔
نظامِ ہضم کی خرابی: مریض کو اکثر گیس اور تیزابیت کی شکایت رہتی ہے۔ پیٹ کے نچلے حصے (پیڑو) پر بوجھ محسوس ہوتا ہے اور مخرج کے راستے ہوا زوردار آواز کے ساتھ خارج ہوتی ہے۔
پیشاب میں تبدیلی: یورک ایسڈ بڑھنے سے پیشاب کی مقدار کم ہو جاتی ہے اور اس کی رنگت سرخی مائل ہو جاتی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ خون میں یوریا اور کریٹینن جیسے مادوں کا مسئلہ بھی پیدا ہو سکتا ہے۔
زبان کی حالت: مریض کی زبان سرخی مائل ہو جاتی ہے اور اس کے کناروں پر دانتوں کے نشانات نمایاں ہوتے ہیں۔ بعض اوقات زبان کٹی پھٹی محسوس ہوتی ہے، اس پر زخم یا منہ میں چھالے بن جاتے ہیں جس سے کھانا کھاتے وقت شدید تکلیف ہوتی ہے۔
نبض کی کیفیت: طبی نقطہ نظر سے ایسی حالت میں مریض کی نبض حرکت میں تیز، قوام میں پتلی اور ٹھوکر لگانے والی محسوس ہوتی ہے۔

یورک ایسڈ کے مریضوں کے لیے غذائی ہدایات اور پرہیز کا  :

پرہیز (ان چیزوں سے بچیں):

یورک ایسڈ کی زیادتی کی صورت میں ان غذاؤں سے مکمل اجتناب کرنا چاہیے جو جسم میں تیزابیت یا پروٹین کی مقدار بڑھاتی ہیں:

پروٹین والی غذائیں: لحمیاتی یا پروٹین سے بھرپور غذاؤں کا استعمال بند کر دینا چاہیے کیونکہ یہ ہضم ہونے کے بعد یورک ایسڈ کی پیداوار بڑھاتی ہیں۔
تیزابی گوشت اور دودھ کی بنی اشیاء: تیزابی خاصیت رکھنے والا گوشت، دہی، اور لسی کا استعمال نہیں کرنا چاہیے۔
فاسٹ فوڈ: برگر اور شوارما جیسی جدید اور غیر صحت بخش غذاؤں سے مکمل پرہیز کرنا ضروری ہے۔
سوداوی اور ریاحی غذائیں: ایسی تمام اشیاء جو جسم میں گیس یا خشکی پیدا کرتی ہیں، ان سے دور رہنا چاہیے۔

بہترین غذا (ان چیزوں کا استعمال کریں):

مریضوں کو ایسی غذاؤں کی طرف راغب ہونا چاہیے جو جسم کے نظام کو اعتدال میں لائیں، جیسے کہ چکنائی (Fats) اور نشاستہ دار اشیاء:

سبزیاں: کریلے، میتھی، پالک، اور شلجم کا استعمال یورک ایسڈ کے مریضوں کے لیے بہترین ہے۔
گوشت: بکرے کا گوشت اور سری پائے کا استعمال کیا جا سکتا ہے۔
پھل اور میوہ جات: اخروٹ، فالسہ، کیلا، اور امرود کو بطور غذا استعمال کرنا نہایت مفید بتایا گیا ہے۔

اس کے علاوہ، ایک خاص سفوف کا بھی ہے جو نظامِ ہضم کو درست کرنے اور یورک ایسڈ کو خارج کرنے میں مدد دیتا ہے، جس میں اجوائن دیسی، پودینہ، نمک، اور سونٹھ شامل ہیں۔ 


ذرائع کے مطابق، یورک ایسڈ کے اخراج اور اس سے پیدا ہونے والے درد کے علاج کے لیے خاص سفوف بنانے کا طریقہ درج ذیل ہے:

سفوف کے اجزاء:

اس سفوف کو تیار کرنے کے لیے آپ کو ان اجزاء کی ضرورت ہوگی:

اجوائن دیسی
پودینہ
نمک
سنڈھ (خشک ادرک)

(نوٹ: ذرائع میں ان اجزاء کی کل تعداد 5 بتائی گئی ہے، تاہم واضح طور پر درج بالا چار اجزاء کا ذکر تفصیل سے ملتا ہے)۔

تیاری اور استعمال کا طریقہ:

سفوف بنانا: ان تمام اجزاء کو ملا کر ان کا انتہائی باریک پاؤڈر (سفوف) تیار کر لیں۔
طریقہ استعمال: اس سفوف کو بڑے سائز کے کیپسولز میں بھر لیں۔
خوراک: ایک کیپسول صبح، دوپہر اور شام استعمال کریں۔

جوڑوں کے درد کے لیے بیرونی علاج (تیل):

اگر یورک ایسڈ کی وجہ سے جوڑوں میں بہت زیادہ درد ہو، تو ہم ایک خاص تیل بنانے کا مشورہ بھی دیتے ہیں:

ایک پاؤ سرسوں کا تیل لیں اور اس میں مذکورہ بالا تمام اشیاء (10، 10 گرام) ڈال کر اچھی طرح جلا لیں۔
جب یہ اشیاء تیل میں اچھی طرح مکس ہو جائیں تو اس تیل سے روزانہ صبح و شام متاثرہ جوڑوں پر مالش کریں۔

یہ علاج چند ہی دنوں میں یورک ایسڈ کے درد میں افاقہ دیتا ہے۔ 


 یورک ایسڈ کی زیادتی گردوں اور پیشاب کے نظام کے لیے سنجیدہ مسائل پیدا کر سکتی ہے۔ 

یوریا اور کریٹینن کا بڑھنا: یورک ایسڈ کی زیادتی کی وجہ سے خون میں یوریا اور کریٹینن (Urea and Creatinine) جیسے مادوں کا مسئلہ پیدا ہو سکتا ہے۔ یہ دونوں مادے گردوں کی کارکردگی کو جانچنے کے اہم پیمانے ہیں، اور ان میں خرابی گردوں کے مسائل کی نشاندہی کرتی ہے۔
پیشاب میں تبدیلیاں: اس کیفیت میں پیشاب کی مقدار کم ہو جاتی ہے اور اس کی رنگت سرخی مائل ہو جاتی ہے، جو اس بات کی علامت ہے کہ اخراج کا نظام صحیح طرح کام نہیں کر رہا۔
پیڑو پر بوجھ: مریض کو پیٹ کے نچلے حصے یعنی پیڑو پر بوجھ محسوس ہوتا ہے، جو گردوں اور مثانے کے ارد گرد دباؤ کی علامت ہو سکتا ہے۔

مختصر یہ کہ یورک ایسڈ کا بڑھنا صرف جوڑوں کے درد تک محدود نہیں رہتا بلکہ یہ گردوں کے افعال کو بھی متاثر کر سکتا ہے

تبصرے