چھبیسویں اور ستائیسویں آئینی ترامیم: پاکستانی عدلیہ اور سیاسی نظام کا بدلتا ہوا منظرنامہ

 

چھبیسویں اور ستائیسویں آئینی ترامیم: پاکستانی عدلیہ اور سیاسی نظام کا بدلتا ہوا منظرنامہ


حال ہی میں عاصمہ جہانگیر کانفرنس میں جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی) کے رہنما کامران مرتضیٰ نے پاکستان کے عدالتی نظام اور حالیہ آئینی ترامیم پر ایک فکر انگیز خطاب کیا۔ ان کا موقف ہے کہ یہ تاثر درست نہیں کہ چھبیسویں ترمیم سے پہلے کی عدلیہ کوئی بہت آئیڈیل تھی یا پورا نظام بہترین طریقے سے چل رہا تھا۔
چھبیسویں ترمیم کا پس منظر اور سیاسی مزاحمت


چھبیسویں ترمیم جب پہلی بار پیش کی گئی تو اس میں چھپن کلازز شامل تھیں۔ ان میں فوجی عدالتوں (ملٹری کورٹس) کا قیام اور آرٹیکل ایک سو ننانوے کے تحت ہائی کورٹ کے اختیارات کو محدود کرنے جیسی تجاویز شامل تھیں۔ کامران مرتضیٰ کے مطابق، جے یو آئی نے ان ترامیم پر تقریباً پانچ سے چھ ہفتوں تک مزاحمت کی اور ان چھپن کلازز کو کم کر کے اکیس سے ستائیس تک محدود کر دیا۔ اس عمل میں جے یو آئی نے پانچ نئی کلازز بھی شامل کروائیں۔
اس سیاسی عمل کے دوران جے یو آئی نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کو ہر مرحلے پر ساتھ رکھنے کی کوشش کی، یہاں تک کہ بانی چیئرمین عمران خان سے مشاورت کے لیے جیل تک رسائی دلانے میں بھی کردار ادا کیا۔ جے یو آئی کی بنیادی کوشش یہ تھی کہ ایک علیحدہ "آئینی عدالت" کے بجائے "آئینی بنچ" تشکیل دیا جائے۔
ججوں کی تقرری اور صوبائی نمائندگی
آئینی بنچ کے ججز کی تقرری کے حوالے سے جے یو آئی کا اصرار تھا کہ اسے سنیارٹی کی بنیاد پر ہونا چاہیے، تاہم پیپلز پارٹی کا موقف تھا کہ ہر صوبے کی نمائندگی ضروری ہے۔ اس کے علاوہ، چیف جسٹس کی تقرری کے لیے تین ججوں کے "پینل" کا تصور متعارف کروایا گیا۔ کامران مرتضیٰ کے مطابق، ایک "جنٹلمین کمٹمنٹ" موجود تھی کہ موجودہ سنیارٹی کو متاثر نہیں کیا جائے گا، لیکن جب کمیٹی میں ووٹنگ ہوئی تو پی ٹی آئی نے اس میں حصہ نہیں لیا۔
ستائیسویں ترمیم اور آئینی اتفاقِ رائے پر سوالات
ستائیسویں ترمیم پر تنقید کرتے ہوئے انہوں نے تقابل کیا کہ امریکہ کی ایک سو سینتیس سالہ تاریخ میں ستائیس ترامیم آئیں، جبکہ پاکستان نے انیس سو تہتر کے آئین کے بعد سے اب تک ستائیس ترامیم مکمل کر لی ہیں اور اٹھائیسویں و انتیسویں ترامیم بھی پائپ لائن میں ہیں۔
اس ترمیم کے حوالے سے کچھ اہم نکات درج ذیل ہیں:
آئینی حیثیت: کامران مرتضیٰ کے مطابق، اس ترمیم کے بعد انیس سو تہتر کے آئین کی "متفقہ دستور" والی حیثیت متاثر ہوئی ہے۔
ججوں کی عمر کی حد: ججوں کی ریٹائرمنٹ کی عمر میں تین سال کا اضافہ کرنے کی کوششوں پر سوالات اٹھائے گئے ہیں کہ کیا یہ کسی خاص خوف یا مقصد کے تحت کیا گیا ہے۔
نتیجہ: درمیانی راستے کی تلاش
پاکستان اس وقت دو انتہاؤں کے درمیان ہے؛ ایک انتہا وہ تھی جو چھبیسویں ترمیم سے پہلے موجود تھی اور دوسری انتہا ستائیسویں ترمیم کے بعد کی صورتحال ہے۔ کامران مرتضیٰ کے مطابق، ملک کی حقیقی ترقی اسی وقت ممکن ہے جب ہم ایک ایسا "درمیانی راستہ" نکالیں جہاں عدلیہ واقعی آزاد اور آئیڈیل بن سکے۔

ان ترامیم کے بعد کیا آئین اب بھی متفقہ دستور کہلایا جا سکتا ہے؟

ذرائع کے مطابق، کامران مرتضیٰ کا موقف ہے کہ ستائیسویں ترمیم کے بعد اب پاکستان کے آئین کو "متفقہ دستور" نہیں کہا جا سکتا۔
اس کی اہم وجوہات درج ذیل ہیں:
متفقہ حیثیت کا خاتمہ: وہ بتاتے ہیں کہ تاریخی طور پر انیس سو تہتر کے آئین کو اس لیے "متفقہ دستور" کہا جاتا تھا کیونکہ اسے ایک بہت بڑی اکثریت (اوور ویلمنگ میجورٹی) نے پاس کیا تھا۔ لیکن ان کے نزدیک ستائیسویں ترمیم کے بعد اس کانسٹیٹیوشن کا یہ خاص اسٹیٹس اب ختم ہو گیا ہے۔
مشاورت کا فقدان: کامران مرتضیٰ کے مطابق، چھبیسویں ترمیم کے وقت تو پانچ سے چھ ہفتوں تک طویل مذاکرات ہوئے اور تمام سیاسی جماعتوں (بشمول پی ٹی آئی) کو ساتھ رکھنے کی کوشش کی گئی ۔ تاہم، ستائیسویں ترمیم کے موقع پر حکومت کو ایوان میں مطلوبہ اکثریت مل گئی، جس کی وجہ سے انہوں نے دیگر اہم اسٹیک ہولڈرز کو بائی پاس کر دیا اور وہ اب مزید "ریلیونٹ" نہیں رہے۔
یکطرفہ قانون سازی: ان کے بقول، جب حکومت نے اپنی اکثریت کے بل بوتے پر یکطرفہ ترامیم کا راستہ اختیار کیا، تو اس سے وہ قومی اتفاقِ رائے ختم ہو گیا جو دستور کی اصل روح تھی۔
مختصراً یہ کہ، ذرائع کے مطابق یہ دستور اب اپنی وہ اخلاقی اور سیاسی حیثیت کھو چکا ہے جس کی بنیاد پر اسے تمام سیاسی قوتوں کا متفقہ فیصلہ تسلیم کیا جاتا تھا۔

تبصرے