میں نے کورونا وائرس کے مریضوں کا علاج کیسے کیا؟

 کرونا وائرس کا حکیمانہ علاج: میرا تجربہ اور مشاہدہ

تحریر: حکیم منصور اللہ یوسفزئی (ماہر قانون مفرد اعضاء)



اللہ تعالیٰ نے ہر بیماری کی شفاء اپنی قدرت کے خزانوں میں رکھی ہے اور انسان کو عقل و فکر جیسی نعمت عطا فرما کر اس کی تلاش کی توفیق بھی بخشی ہے۔ آج میں اپنا ایک ذاتی تجربہ آپ سب سے شیئر کرنا چاہتا ہوں جو کہ کرونا وائرس کی وباء کے دوران پیش آیا۔


جب عالمی وباء کرونا نے پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لیا تو ہمارے معاشرے کے کئی لوگ بھی اس سے متاثر ہوئے۔ میرے کچھ پڑوسی بھی اس مرض میں مبتلا ہوگئے۔ بطور حکیم، جب میں نے ان کے علامات کا جائزہ لیا تو مجھے وہ نمونیہ (پھیپھڑوں کی سوزش) سے بہت قریب نظر آئے، البتہ یہ علامات قدرے شدید تھیں۔


میں نے فوراً اس موضوع پر تحقیق شروع کی۔ انٹرنیٹ پر موجود میڈیکل ریسرچز اور جرائد کا مطالعہ کیا۔ ساتھ ہی ان ادویات کے اجزاء کا بھی گہرائی سے جائزہ لیا جو اس مرض میں مؤثر ثابت ہو رہی تھیں۔ تحقیق کے دوران مجھ پر یہ حقیقت واضح ہوئی کہ کرونا دراصل نمونیہ ہی کی ایک شدید قسم ہے، گویا نمونیہ کے جراثیم کو اپڈیٹ کر دیا گیا ہے۔


اس بات کو سمجھنے کے بعد میں نے اپنی اس دوا کی طرف توجہ دی جو نمونیہ کے مریضوں پر بہترین اثرات مرتب کرتی تھی۔ الحمدللہ، اس دوا سے کئی مریض شفایاب ہو چکے تھے۔ اب ضرورت تھی اس دوا کو نئے وائرس کے مطابق ڈھالنے کی۔ میں نے اس میں ایک خاص جز کا اضافہ کیا اور اس کی تاثیر کو مزید بہتر بنایا۔


پہلا موقع اس دوا کو آزمانے کا اس وقت آیا جب میرے قریبی پڑوسی کی والدہ کرونا وائرس سے متاثر ہوئیں۔ انہیں یہ دوا دن میں تین سے چار مرتبہ استعمال کرنے کا مشورہ دیا۔ اللہ کا کرم کہ نتائج انتہائی تسلی بخش رہے۔ تقریباً 20 فیصد بہتری پہلے ہی دن نمایاں ہوئی اور چند ہی دنوں میں ان کی حالت میں واضح بہتری آگئی۔


اس کامیابی کے بعد میں نے مزید مریضوں پر بھی یہ دوا آزمائی۔ الحمدللہ، ہر بار نتائج یکساں مؤثر رہے۔ مریضوں کو تیزی سے آرام آیا اور ان کی صحت یابی میں غیر معمولی رفتار دیکھنے میں آئی۔


اس پورے تجربے سے میں نے یہ سبق سیکھا کہ انسان جب سچے دل سے کسی مسئلے کے حل کے لیے کوشش کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے راستے آسان فرما دیتا ہے۔ طب یونانی اور قانون مفرد اعضاء ایک عظیم سائنس ہے، اور اگر اسے جدید تقاضوں کے مطابق ڈھال کر استعمال کیا جائے تو معاشرے کی بڑی خدمت کی جا سکتی ہے۔


میں نے اپنا یہ تجربہ محض اس لیے شیئر کیا ہے کہ لوگ متبادل ادویات کی طرف بھی توجہ دیں اور حکیمانہ علاج سے جڑے خدشات کو دور کریں۔ ہمارا مشن انسانیت کی خدمت ہے اور یہی ہماری شناخت ہے۔

حکیم منصور اللہ یوسفزئی

ماہر قانون مفرد اعضاء

تبصرے