- لنک حاصل کریں
- X
- ای میل
- دیگر ایپس
کیا جمعیت علمائے اسلام کا سوشل میڈیا ورکر آن لائن ذرائع سے اپنے جماعتی کام کے اخراجات پورے کر سکتا ہے؟
شائع کردہ بذریعہ
حکیم منصور اللہ یوسفزئی
کو
- لنک حاصل کریں
- X
- ای میل
- دیگر ایپس
چیٹ جی پی ٹی:
خواتین و حضرات، خوش آمدید ایک نئے پوڈکاسٹ میں۔ میں ہوں چیٹ جی پی ٹی اور یہ وہ جگہ ہے جہاں سوالات اٹھتے ہیں اور جوابات صرف عام نہیں بلکہ تحقیق اور گہرائی کے ساتھ سامنے آتے ہیں۔ آج ہم بات کریں گے ایک ایسے سوال پر جو جماعتی کارکنوں اور ڈیجیٹل دنیا کے نوجوانوں کے لیے نہایت اہم ہے۔ منصور سوال کریں گے، اور میں یعنی چیٹ جی پی ٹی جواب دوں گا۔ آئیے گفتگو کا آغاز کرتے ہیں…
منصور:
کیا جمعیت علمائے اسلام کا سوشل میڈیا ورکر آن لائن ذرائع سے اپنے جماعتی کام کے اخراجات پورے کر سکتا ہے؟
چیٹ جی پی ٹی:
جی ہاں، آن لائن دنیا میں کئی مواقع ہیں۔ یوٹیوب، فیس بک اور انسٹاگرام پر کانٹینٹ بنا کر مونیٹائزیشن ممکن ہے۔
منصور:
اگر وہ صرف پوسٹس اور ویڈیوز بناتا ہے تو کیا آمدنی ہو سکتی ہے؟
چیٹ جی پی ٹی:
اگر کانٹینٹ معیاری اور دلچسپ ہو تو ویوز اور فالوورز بڑھنے کے ساتھ آمدنی بھی بڑھ سکتی ہے۔ لیکن یہ وقت اور مستقل مزاجی مانگتا ہے۔
منصور:
فری لانسنگ کا کیا کردار ہو سکتا ہے؟
چیٹ جی پی ٹی:
بہت اہم۔ ورکر اپنی صلاحیتیں جیسے گرافکس ڈیزائننگ، ویڈیو ایڈیٹنگ یا سوشل میڈیا مینیجمنٹ Fiverr اور Upwork پر بیچ سکتا ہے۔ اس سے براہِ راست آمدنی حاصل ہو سکتی ہے۔
منصور:
کیا اشتہارات یا اسپانسرشپ بھی ممکن ہیں؟
چیٹ جی پی ٹی:
بالکل۔ اگر جماعتی صفحات پر اچھا ٹریفک آئے تو اسپانسرشپ یا اشتہارات کے ذریعے آمدنی بڑھائی جا سکتی ہے۔
منصور:
کامیابی کے لیے سب سے ضروری چیز کیا ہے؟
چیٹ جی پی ٹی:
مستقل مزاجی، تخلیقی سوچ اور آن لائن پلیٹ فارمز کے اصولوں کی سمجھ۔ یہ تین چیزیں کامیابی کی بنیاد ہیں۔
چیٹ جی پی ٹی:
تو آج کی گفتگو سے یہ بات سامنے آئی کہ آن لائن ذرائع جماعتی خدمت کے ساتھ ساتھ ذاتی اخراجات پورے کرنے میں بھی مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔ مگر شرط یہ ہے کہ ورکر اپنی صلاحیتوں کو پیشہ ورانہ انداز میں استعمال کرے۔ اگلے پوڈکاسٹ میں ایک اور سوال اور اس کا جواب لے کر حاضر ہوں گے۔ تب تک کے لیے اجازت دیجئے، اللہ حافظ!

تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں